ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کشمیر میں یواین ایم او جی آئی پی کے کردار پراقوام متحدہ نے لیا یوٹرن 

کشمیر میں یواین ایم او جی آئی پی کے کردار پراقوام متحدہ نے لیا یوٹرن 

Wed, 03 Aug 2016 18:36:22    S.O. News Service

نیویارک ، 3 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )اقوام متحدہ نے اپنے اس بیان سے قدم پیچھے کھینچ لیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان میں واقع اپنے فوجی مبصر گروپ کے ذریعے وہ کشمیر کے حالات پر مسلسل نظر بنائے ہوئے ہے۔اقوام متحدہ کی طرف سے اس بیان سے پلٹنا غیر معمولی بات ہے۔اس نے واضح کیا ہے کہ کنٹرول لائن کے اس پار کا علاقہ مشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے۔یہ وضاحت اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان اسٹیفن دجارک نے کل دیاہے ۔اس کے ایک دن پہلے ہی بان کی مون کے نائب ترجمان فرحان حق نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اقوام متحدہ اپنے نگرانی گروپ ہندوستان اور پاکستان کے اقوام متحدہ فوجی مبصر گروپ(یواین ایم ایم جی آئی پی )کے ذریعے کشمیر کے حالات پر مسلسل نگاہ رکھے گا۔کشمیر کے حالات کے بارے میں دجارک نے کہا کہ میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں، وہاں موجود اقوام متحدہ کے نگرانی گروپ یواین ایم او جی آئی پی کام کنٹرول لائن پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کی صورت حال کی خبر رکھنا ہے۔کنٹرول لائن کے اس پار کا علاقہ اقوام متحدہ کے اس مشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے۔دجارک سے جب یہ پوچھا گیا کہ انہیں اس پر وضاحت پیش کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟تو انہوں نے کہا، کیونکہ مجھے لگا کہ یہ بتایا جائے ضروری ہے۔اس وضاحت سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ کشمیر کے حالات اور واقعات ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ یواین ایم او جی آئی پی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے کیونکہ یہ گروپ صرف کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر نظر رکھتا ہے اور اس کی رپورٹ دیتا ہے۔یہ گروپ جموں و کشمیر میں حالات پر نگرانی نہیں رکھتا ہے ۔
بان کی مون کے ترجمان اسٹیفن دجارک سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اقوام متحدہ قبرص اور مغربی ایشیا میں تنازعہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو جنرل سکریٹری نے کشمیر تنازعہ کا حل نکالنے کی کوشش کیوں شروع نہیں کی ؟اس پر دجارک نے زیادہ تفصیل سے کچھ بتانے کے بجائے صرف اتنا کہاکہ میں یہ آپ پر اور دیگر لوگوں پر چھوڑتا ہوں،آپ اس کی وجوہات کا تجزیہ کیجئے۔میرا خیال ہے کہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق سوال ہمارے پاس پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں لیکن ہمارا جواب اب بھی وہی ہے ۔ان سے پوچھا گیا کہ کشمیر کے حالات پر اقوام متحدہ اور اس کے جنرل سکریٹری تبصرہ کرنے سے بچتے کیوں ہیں ؟تو دجارک نے کہا کہ جب بھی اس معاملے پر سوال پوچھے جاتے ہیں، اقوام متحدہ کی جانب سے تبصرہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس لیے میں نہیں مانتا کہ ہم بچتے ہیں۔سلامتی کونسل نے 1971کی تجویز 307میں جو حکم دیا ہے اس کے مطابق یواین ایم او جی آئی پی جموں و کشمیر میں جنوبی ایشیائی پڑوسی ممالک کے درمیان حقیقی کنٹرول لائنوں اور کام کاج والی سر حد پر اور اس کی دونوں جانب جنگ بندی کی خلاف ورزی پر نظر رکھتا ہے۔یہ ان سرگرمیوں کی رپورٹ بھی دیتا ہے جس کی وجہ سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ہندوستان کا کہنا ہے کہ شملہ معاہدہ اور کنٹرول لائن کی حدبندی کے ساتھ ہی یواین ایم او جی آئی پی اپنی اہمیت کھو چکا ہے اور اب یہ غیر ضروری ہو چکا ہے۔اس سال مارچ تک یواین ایم او جی آئی پی میں 44فوجی مبصر، 25بین الاقوامی شہری اور 47مقامی شہری عملے تھے۔
 


Share: